29/07/2020

Allama Asif Raza Alvi se majlis ke doran Sawal hogya:





دوران مجلس علامہ آصف رضا علوی صاحب سے ایک نوجوان نے شیعوں پر لگائے جانے والے کچھ الزامات سے متعلق سوال کیا جس کے جواب میں انھوں نے کہاکہ ہم ہر سوال کا جواب علمی اور عقلی دلائل کے ساتھ دیں گے لیکن محرم میں شیعوں پر اٹھائے گئے ہر سوال کا جواب خدا نے حج کے دوران دیا ہے۔ شیعہ قوم پر مجالس ، ذوالجناح ، زنجیر زنی، ماتم اور کالے کپڑے پہننے پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس سے امام حسین علیہ السلام کو کیا ملے گا؟اس کے بجائے ان کے لیے نماز اور قرآن پڑھ کے بخشنے کی تجویز دی جاتی ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن تو انھیں بخشا جاتا ہے جو خود نہ پڑھ سکیں اور اگر مجلس و ماتم سے امام حسین (ع) کو کچھ نہیں ملتا تو صفا و مروہ کے درمیان دوڑنے سے ابراہیم (ع) کو کیاملے گا وہاں بھی حاجی نماز اور قرآن پڑھ کے کیوں نہیں بخشتے۔ علامہ صاحب نے کہا کہ جس طرح حج کے دوران سعی کرنا ابراہیم (ع) کی قربانی کی یاد تازہ کرتا ہے اسی طرح ہر سال مجلس و ماتم ، قاتل اور مقتول کے فرق کو قائم رکھتے ہیں۔ دوسرا اعتراض تعزیہ چومنے پہ کیا جاتا ہے جب کہ دوران حج اگر کوئی حجر اسود کا بوسہ نہ لے سکے تو وہ دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو اس طرف کرے اور پتھر کی نیت کر کے بوسہ لے سکتا ہے تو ہم روضہ حسین (ع) کو ذہن میں رکھ کر تعزیے کا بوسہ کیوں نہیں لے سکتے۔ تیسرا اعتراض جو ہماری ماوں ، بہنوں یا بیٹیوں کے جلوسوں میں آنے پر کیا جاتا ہے اس کا جواب انھوں نے یوں دیا کہ دوران حج کروڑوں کے اجتماع میں کندھے سے کندھا ملا کے مرد و خواتین طواف کرتے ہیں جب وہاں عبادت کی غرض سے اللہ نے اعتراض نہیں کیا تو ہماری خواتین بھی اسی کعبے کو بچانے والے کا غم منانے کے لیے عبادت سمجھ کر آتی ہیں۔ چوتھا اعتراض مجالس میں یزید اور نسل یزید پر لعنت کے حوالے سے ہوتا ہے کہ یہ کسی طور درست نہیں، یزید کا معاملہ خدا کے سپرد کر دینا چاہیے اس پر علامہ آصف رضا علوی صاحب نے کہا کہ دوران حج شیطان کو کنکریاں مارنے کے بجائے اس کا معاملہ بھی خدا کے سپرد کر دیں کہ خدا جانے اور شیطان جانے۔ انھوں نے کہا کہ یہ تمام روایات امام مظلوم کربلا کے غم کو تازہ کرنے اور حق و باطل کے فرق کو رہتی دنیا تک قائم رکھنے کے لیے ہیں۔



A person asked a question from Allama Asif Raza Alvi during majlis and he replied him with great answers with all references 

This Video was exclusively recorded and released by our network Farogh e Aza you can watch the video from above Link