13/08/2020

Asif Jalai Case Update :




 جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ آصف جلالی نامی مولوی نے بی بی فاطمہ (س) کی شان میں گستاخی کی اور انھیں خطا کار کہا تو تمام عالم اسلام بالخصوص اہلسنت کے آستانوں کے پیر حضرات ، اہل تشیع کے علما و ذاکرین اور وکلاء کی طرف سے نہ صرف اس پہ احتجاج کیا گیا بلکہ سوشل میڈیا پہ بھی اسکا بائیکاٹ کیا گیا لیکن اس کے باوجود وہ شخص اہل بیت اور سیدہ (س) کی شان میں بڑھ بڑھ کر گستاخی کرتا رہا۔ اس کے خلاف ایف آئی آر بھی کٹوائی گئی اور اہل تسنن کی جانب سے بھی اس کے خلاف کارروائی کا کہا گیا بلکہ اہل سنت کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ جو بھی بی بی (س) کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہو اس کا نہ صرف اہل سنت بلکہ کسی بھی مسلک سے کوئی تعلق نہیں۔
قانونی کاروائی عمل میں لاتے ہوئے آصف جلالی کو گرفتار کر کے دو بار چودہ، چودہ روزہ ریمانڈ پر جیل بھیجا گیا۔ اس کی طرف سے ماڈلٹاون کچہری میں درخواست دائر کی گئی لیکن معزز جج بشری انوار صاحبہ نے سننے سے انکار کر دیا ۔ سیشن کورٹ کے معزز جج حافظ طفیل صاحب نے اس کیس کو سنا ، وکلا کی طرف سے جرح کی گئی کہ بی بی کی شان کیا بیان ہو جو جنت کی عورتوں کی سردار ہو، جن کی دہلیز پہ فرشتے کبھی درزی بن کے آئیں تو کبھی چکی چلائیں، رسول (ص) کھڑے ہو کر جن کا استقبال کریں اس پاک ہستی کو خطا کار کہنے پر جرح کی گئی تو جج صاحب کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں اور انھوں نے فیصلہ سناتے ہوئے ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔اس فیصلے نے اسلام کو نئی تقویت دی ۔

اب جب کہ محرم الحرام نزدیک ہے تو پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش میں رہی جس میں کچھ شر پسند عناصر کی جانب سے کہا گیا کہ اگر آصف جلالی کی درخواست ضمانت مسترد کی گئی تو ہم محرم میں مجالس اور جلوس نہیں ہونے دیں گے۔ سیکیورٹی اداروں کو ان شر پسند عناصر کو قابو کرنا چاہیے جو ملک میں امن و امان کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے مقتدر اداروں نے امن قائم کرنے کے لیے نیشنل سیکیورٹی کے قانون پر عمل کروایا ہے اور امید کرتے ہیں کہ اس پر آئندہ بھی عمل ہو گا۔
امام حسین (ع) کسی ایک مسلک کے نہیں بلکہ وہ تو محسن کائنات اور عالم اسلام کے لیے مشعل راہ ہیں۔ شیعہ علماکو بھی اتحاد کی فضا قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان امن کا گہوارہ بن سکے اور ہم اپنے اپنے مسالک اور امن کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے مذہبی رسومات ادا کر سکیں۔ اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو آمین.




As we all know that a case is in court against Asif AshrafJalali. After the arrest , jalali was sent to jail 14 days , the request of bail was filed but the honorable judge Bushra Anwar said that she won't listen this case and it was transferred to Hafiz Bilal honorable judge of Session Court . Yesterday was the hearing of bail request of jalali and after hearing the arguments of Lawyers . Honorable judge rejected the bail of asif jalali .
Now the Muharram 2020 is near and a video went viral on social media in which a molvi said that if the bail of asif jalali is not granted we will not allow any jaloos to pass . We request all the authorities of the country to take action against these people to maintain the peace and harmony among the nation

No comments: