15/08/2020

majlis e hussain me paity lana-majlis2020:





دس محرم الحرام 61 ہجری کے دن کربلا میں امام حسین (ع) کو ان کے خاندان و انصار کے ساتھ نہر فرات پر پیاسا شہید کر دیا گیا۔ظلم کی یہ داستان یہیں نہ رکی بلکہ امام حسین (ع) کے خاندان کی مستورات کو قیدی بنا کر کرب و بلا سے شام تک کا جو سفر کروایا گیا اور ان پر جو ظلم کیے گئے اس کی مثال دنیامیں کہیں نہیں ملتی۔ ظلم کی یہ داستان چھپ جاتی مگر سیدہ زینب (س) کے خطبوں نے امام حسین (ع) کے مقصد کو زندہ رکھا۔ پاک بی بی نے زندان شام میں جو پہلی مجلس برپا کی اسی مجلس کے صدقے آج گھر گھر میں امام حسین (ع) کا ذکر جاری ہے اور ہر مومن یہ چاہتا ہے کہ وہ امام کی مجلس اپنے گھر میں کروائے اور امام زمانہ (ع) کو ان کے جد کا پرسہ دے۔ مومنین کے اس خلوص کا کچھ مفاد پرست ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں اور اپنی شخصیت کو اجاگر کرنے کے لیے اس پاک ذکر میں ریاکاری کرتے ہیں۔
جیسا کہ کچھ دنوں پہلے سوشل میڈیا پر ایک نامور ذاکر کی آڈیو ریکارڈنگ وائرل ہوئی جس میں اس نے اپنے کارندے سے کہا کہ وہ کچھ لوگوں کو اکٹھا کر کے اس کی مجلس میں لے کر آئے، اس کام کے اسے پیسے دیئے جائیں گے ۔ یاد رہے کچھ عرصے سے ذکر امام حسین (ع) میں اس پیٹا کلچر کو پروموٹ کیا جارہا ہے جس میں ذاکر اپنے مطلوبہ لوگوں کو مجلس میں لے کر آتا ہے اور ان سے کہتا ہے کہ اس کے بیان کیے ہوئے فضائل پر داد دیں اور مصائب پر ریاکاری سے گریہ و ماتم کریں تاکہ ذاکر کو عوام اور بانیان کے سامنے جھوٹی شہرت مل سکے۔
یہ حقیقت عیاں ہونے کے بعد اب مومنین اور بانیان کا فرض بنتا ہے کہ وہ ایسے مکار ذاکرین کو مجلس امام حسین (ع) سے دور رکھیں اور اس پیٹا کلچر کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کریں ۔ مجلس امام حسین (ع) ایک عظیم عبادت ہے ۔ مومنین کو چاہیے کہ وہ اس بہترین عبادت کو خلوص نیت سے سرانجام دیں اور چند لوگوں کی وجہ سے مخالفین کو شیعت پر تنقید کا موقع نہ دیں۔
یہ مجالس بی بی زینب (س) اور امام سجاد (ع) کی سنت ہیں ۔ اس عزاداری کے تحفظ کے لیے ہمارے مومنین نے اپنی جان کے نذرانے پیش کیے ہیں ۔ ہمارا فرض بنتا ہے کہ اس پاک عبادت میں کسی قسم کی ریاکاری کو قبول نہ کریں ۔ ہم ایسے ریاکار ذاکرین کی مذمت کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ مولا امام زمانہ (ع) ہماری برپا کی ہوئی مجالس کو اپنی بارگاہ میں قبول و منظور فرمائیں (آمین).
ہماری تمام مومنین سے گزارش ہے کہ وہ اس پیغام کو اپنا دینی فریضہ سمجھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ شیئر کریں ( خادم مشن امام زمانہ ، آغا عقیل اسد کربلائی)

No comments: