03/08/2020

Muharram Ke Jaloos per Pabandi Kyun?


سورہ توبہ میں اللہ نے حرمت والے چار مہینے بتائے ہیں جن میں دو ذوالحج اور محرم ہیں۔ ذوالحج کا مہینہ جو گزر رہا ہے اور ابھی عید نہایت جوش و جذبے سے منائی گئی۔ مسلمانوں نے قربانی کا فریضہ سر انجام دے کر سنت ابراہیمی کی یاد تازہ کی۔ کرونا کے باوجود مویشی منڈیوں میں جانوروں اور خریداروں کا رش رہا۔ لوگوں نے اس عظیم قربانی کی یاد منانے کے لیے بلا خوف و خطر منڈیوں کا رخ کیا، جانور خریدے اور سجائے گئے۔ بازاروں میں عید کی خریداری کرنے والوں کا ہجوم دیکھنے میں آیا۔ گلی محلوں میں جانوروں کے آنے سے چہل پہل رہی غرضیکہ کرونا کے خطرات کے باوجود مسلمانوں نے عید اسی جوش و جذبے اور ولولے کے ساتھ منائی۔ مویشی منڈیوں کے نزدیک ٹریفک کی روانی متاثر ہونے کے باوجود کسی نے تکلیف کی شکایت نہ کی کیونکہ مقصد اسلام کی ایک عظیم قربانی کی یاد تازہ کرنا تھا۔ 
اب اگلا حرمت والا مہینہ محرم الحرام جس میں اسلام کی دوسری عظیم قربانی کی یاد تازہ ہو گی ، اس کے آغاز سے قبل ہی حکومتی پالیسیاں محرم میں ہونے والی مجالس اور جلسے جلوسوں کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ عید کے دنوں میں بازاروں ، منڈیوں اور سڑکوں پر گہما گہمی اور ہجوم ،  ٹریفک کا دباو حکومت اور عوام دونوں کے لیے پریشانی کا باعث نہ بنا نہ ہی کرونا کی روک تھام کے لیے لوگوں کے منڈیوں میں جانے اور اکٹھے ہونے پر پابندی لگائی گئی۔ اس کے برعکس محرم کے جلوسوں پر پابندی اور مجالس کو محدود کرنے کی حکومتی پالیسی سامنے آئی ۔ نہ صرف محرم بلکہ رمضان میں یوم علی (ع) کے حوالے سے نکالے جانے والے جلوسوں اور مجالس کو روکنے کی کوشش بھی کی گئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا کرونا مجالس اور جلوسوں سے ہی پھیلتا ہے؟ کیا مجالس اور جلوس سے پیدا ہونے والا ٹریفک کا دباو ہی پریشانی کا باعث بنتا ہے ؟ 
ہمارے ماتم دار، عزادار، تعزیہ دار اور مولا کو پرسہ دینے والے جوان ، ان کی قربانیوں کا اثر کسی طور زائل نہیں کر سکتے کہ کیسے امام حسین (ع) نے چھ ماہ کے علی اصغر کو قربان کیا، کیسے علی اکبر کے سینے پہ برچھی کا پھل اور بھتیجے قاسم کی لاش کے ٹکڑے دیکھے۔ یہ سب امام عالی مقام نے انسانیت اور دین کی بقا کے لیے کیا اور آج ان کے چاہنے والے اپنی زندگیاں ان پر قربان کر سکتے ہیں۔ عزاداری کو روکنا کسی صورت ممکن نہیں ہے۔ 
جیسا کہ حدیث مبارکہ ہے کہ " میرا حسین نجات کی کشتی ہے"۔ اس لیے اس کشتی کا سوار کبھی ڈوب نہیں سکتا بلکہ ذکر حسین راہ نجات ہے۔ اس ذکر میں بیماروں کے لیے شفا ہے ۔ عزاداری ، ماتم داری اور پرسہ داری کی راہ میں نہ تو کرونا رکاوٹ بن سکتا ہے اور نہ ہی حکومتی پالیسیاں۔
ہمارے جوانوں ، علما کرام کو متحد ہو کر اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ کوئی بھی چیز ذکر حسین (ع) کی راہ میں رکاوٹ کا باعث نہ ہو اور ابراہیم (ع) کی قربانی کی طرح آل پیغمبر 
ص) کی قربانی کی یاد بھی ہمیشہ کی طرح عقیدت و احترام  
                                         سے منائی جاسکے۔


Muharram Ke Jaloos per Pabandi Kyun?


As we all know that everyone celebrated Eid-ul-Adha with great passion . People bought animals although we are facing pandemic but no one said that we should not buy animals for sacrifice because as a muslim it is part of our religion to remember the sacrifice of Hazrat Ibrahim a.s . After some days Muharram is coming and in muharram shia community will organize majalis , jaloos , matam and azadari . The problem is that everyone will start criticizing that its the pandemic time and majalis , jaloos and other gatherings should not be held . Our question is that the purpose of all azadari in muharram is to  remember the sacrifice of Imam Hussain which he gave in karbala . Why the  people who are raising question about azadari that it should not happen because it is the cause of spreading Pandemic were quite on eid because there was too rush in animal market??? It means that they just have problem from Azadari e Imam Hussain . But we want to give a clear message that azadari will happen this year at any cost . If government want us to follow sop's we will but if they want our majalis to be of one hour and ban jaloos we we will never compromise on this.